sábado, 14 de febrero de 2026

کیا قوم کے وجود سے ساری حیا چلی گئی؟

🍁غزل🍁 قیدِ شب میں قوم کی کیسی صدا چلی گئی حق تھا لبوں پہ جس کے، وہی صدا چلی گئی اک آنکھ کیا گئی کہ فقط روشنی نہ کم ہوئی احساس کی نگاہ سے ساری حیا چلی گئی کل تک تھے جو کھڑے ہوئے غیرت کے نام پر مفاد آیا سامنے تو وہ ادا چلی گئی ظلمت کے سامنے بھی جھکے جا رہے ہیں سر کیا دل سے غیرتِ حق کی بھی بقا چلی گئی؟ جس شخص نے وقار کا پرچم اٹھا دیا اس کے اسیر ہوتے ہی کیوں وفا چلی گئی؟ ڈر کے سناٹوں میں چھپے بیٹھے ہو کیوں سبھی؟ کیا رگ رگوں سے جراتِ اظہارِ صدا چلی گئی؟ اٹھو کہ وقت پوچھ رہا ہے تمہارے حال سے کیا مردہ ضمیروں سے ہر اک وفا چلی گئی؟ مظہرؔ یہ چیخ لکھ دے زمانے کے نام پر کیا قوم کے وجود سے ساری حیا چلی گئی؟ ✍️مظہرؔ اِقبال گوندَل بارسِلونا سَپین 13/02/2026

No hay comentarios:

Publicar un comentario